امریکا نے افغانستان سے مکمل انخلاء کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی انخلاء مکمل کر لیا ہے، افغانستان سے امریکا کا آخری فوجی بھی نکل گیا، 20 سال بعد افغانستان سے امریکا کا قبضہ ختم ہو گیا۔ نائن الیون 2001ء کے حملے کو جواز بنا کر امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور 20 برس بعد اس نے بالآخر افغان سر زمین چھوڑ دی، اس دوران امریکی، اتحادی و نیٹو کے کتنے فوجی بھیجے اور کب واپس بلائے گئے، اس کی تفصیلات ترتیب وار پیشِ خدمت ہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کو نائن الیون کا واقعہ پیش آیا جس میں امریکی شہر نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز، محکمۂ دفاع کی عمارت پینٹاگون سمیت کئی مقامات پر جہاز ٹکرانے سے 3 ہزار کے قریب افراد مارے گئے۔ نائن الیون کے بعد 1 ماہ سے بھی کم وقت میں سابق امریکی صدر جارج بش نے اس حملے کو جواز بنا کر افغانستان میں آپریشن شروع کیا۔ 7 اکتوبر 2001ء کو امریکا نے افغانستان میں آپریشن شروع کر دیا۔ نومبر 2001ء تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 1300 کے قریب تھی۔
سنہ 2002ء تک افغانستان میں امریکی فوجیو ں کی تعداد 10 ہزار تک بڑھا دی گئی۔ امریکا نے مارچ 2003ء میں عراق پر حملہ کر دیا۔ اسی دوران طالبان کے دھڑے اور دیگر تنظیمیں افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں منظم ہونا شروع ہوئیں۔ 2008ء میں امریکی کمانڈ نے افغانستان میں مزید افواج بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ سابق صدر بش نے مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجے جس کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 48 ہزار 500 تک جا پہنچی۔
امریکی افواج کا انخلاء مکمل، پورے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول سنہ 2009ء میں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 68 ہزار تک بڑھا دی۔ دسمبر 2009ء میں ہی صدر اوباما نے مزید 30 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجا۔ 2010ء تک افغانستان میں 1 لاکھ امریکیوں سمیت ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی اہلکار موجود تھے۔ 2 مئی 2011ء کو امریکی اسپیشل فورسز نے پاکستان میں آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔ 2014ء میں نیٹو اتحادیوں نے افغانستان میں فوجی آپریشن ختم کر دیا، جس کے بعد 9800 امریکی فوجیوں سمیت افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعداد 12500 رہ گئی، یہ فوجی اہلکار افغان فورسز کی تربیت اور انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے لیے موجود تھے۔ 2015ء میں افغانستان میں صورتِ حال خراب ہونا شروع ہوئی اور داعش نے جڑیں مضبوط کیں۔ 2017ء میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے انخلاء کے ٹائم ٹیبل کو ختم کرتے ہوئے مزید 1 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجا۔ اس دوران دہشت گرد حملے بڑھے، خاص طور پر افغان فورسز کے خلاف، جبکہ امریکا نے فضائی حملے بھی تیز کر دیئے۔ 2018ء میں امریکا اور طالبان نے دوحہ میں مذاکرات شروع کیئے۔ طالبان نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا، امریکا نے افغان سر زمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ 29 فروری 2020ء کو مئی 2021ء تک تمام غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کا معاہدہ طے پا گیا۔
بیس سالہ جنگ کے بعد پھر طالبان کا دور، افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا مکمل جنوری 2021ء تک امریکی فوج کی تعداد کم ہو کر 2500 تک ہو گئی۔ اپریل میں نیٹو نے 9600 فوجیوں کا انخلاء شروع کیا۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کا معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ جو بائیڈن نے امریکی فوج کے انخلاء کی تاریخ 11 ستمبر 2021ء تک بڑھا دی۔ 8 جولائی کو امریکی صدر بائیڈن نے انخلاء 31 اگست تک مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ اگلے روز طالبان نے 85 فیصد افغانستان پر کنٹرول کا دعویٰ کر دیا۔ 15 اگست کو طالبان نے کابل پر بھی قبضہ کر لیا۔ امریکی انخلاء کا آج آخری روز ہے، تمام امریکی فوج واپس چلی گئی، امریکا نے افغانستان سے مکمل انخلاء کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی انخلاء مکمل کر لیا ہے۔ افغانستان سے امریکا کا آخری فوجی بھی نکل گیا، 20 سال بعد افغانستان سے امریکا کا قبضہ ختم ہو گیا۔ امریکا نے افغانستان سے فوجی انخلاء مکمل ہونے کی تصدیق کر دی جس کے بعد طالبان نے کابل ایئر پورٹ کا مکمل کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ افغانستان سے امریکا کے قبضے میں موجود آخری علاقہ بھی طالبان کے کنٹرول میں آ گیا، پورے افغانستان پر کنٹرول کی خوشی میں طالبان نے ہوائی فائرنگ کی۔
0 Comments