آج سے بیس سال پہلے دنیا بھر میں 26 دنوں تک یہ بات زیر گردش رہی تھی کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ ، جنرل اسمبلی کی پانچ روزہ نشست میں دہشت گردی کے خلاف منظور کردہ قرار داد نمبر 1373 کی توثیق نہیں ہو سکی تھی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اب تک دہشت گردی کی واضح ، متفقہ اور معقول تشریح نہ کرنا بھی ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا تھا اور عالمی کنونشن میں ( عالمی دہشت گردی ) کی تعریف و تشریح کرنا باقی تھا کہ بالآخر اتوار 7 اکتوبر 2001 کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجکر 40 منٹ پر امریکا اور برطانیہ نے مل کر افغانستان پر بمبار طیاروں اور کروز میزائلوں کی بارش کر دی تھی۔ یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 میں امریکی طاقت کی 2 علامتیں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹا گون پر مسافر بردار طیارے ٹکرا کر بالترتیب زمین بوس ہوئے اور عمارت تباہ ہوئی تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا تھا کہ’’ حملے قومی المیہ ہیں، مجرموں کو تلاش کر کے بدلہ لیں گے ۔‘‘
اگرچہ ان حملوں نے امریکا کی جاسوسی کو ناکامی سے تعبیر کیا لیکن مجرموں کو تلاش کر کے بدلہ لینے میں امریکا نے جس پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ اس پر دنیا امریکا سے کہنے لگی تھی کہ ثبوت دکھائے اور پیش کیے بغیر افغانستان پر حملہ نہ کیا جائے اور جس پر الزام لگایا گیا یعنی اسامہ بن لادن پر وہ متعدد بار ان حملوں کی تردید کر چکے تھے لیکن عالمی انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ افغانستان پر یہ حملے اس حوالے سے بھی یقینی تھے کہ جولائی 2001 میں یہ باتیں عیاں ہوچکی تھیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے امریکا اپنی قیادت میں ایک نئی عالمی اتحاد تشکیل دے رہا ہے جس کے ذریعے اسامہ بن لادن کے خطرہ کو ختم کرنا اور افغانستان میں دونوں گرپوں کے مابین طاقت کے توازن کو برابر کرنے کے لیے طالبان مخالف اتحاد کو اسلحہ مہیا کیا جائے گا۔
افغانستان پر حملے کے دوران طالبان حکومت ختم کر دی گئی تھی اور بون کانفرنس کے ذریعے افغانستان پر کٹھ پتلی حکومت قائم کی گئی یہ سلسلہ 15 اگست 2021 کو طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے ساتھ ختم ہو گیا ۔ بیس سال بعد امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدے کے تحت پیر اور منگل یعنی 30 اور 31 اگست 2021 کی درمیانی رات افغانستان کے وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے اور پاکستانی معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے افغانستا ن سے تمام امریکی افواج کا انخلا مکمل ہو گیا۔ اس دوران امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ٹوئٹر پر میجر جنرل کرس ڈونا ہو کی تصویر شئیر کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ افغانستان چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی ہیں جو طیارے میں سوار ہونے جارہے ہیں جس کے ساتھ ہی کابل میں امریکی مشن اختتام کو پہنچا۔ کابل چھوڑنے والے اس آخری امریکی فوجی کی تاریخ ساز اور نائٹ وژن کیمرے سے لی گئی تصویر نے سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹ پر جگہ بنا لی ہے۔ اس طرح کابل میں واقع حامد کرزئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ خالی ہو چکا ہے۔
ایئر پورٹ خالی ہونے کے بعد طالبان کی اسپیشل فورس بدری 313 نے اندر داخل ہوکر سرچ آپریشن کیا اور ایئر پورٹ کی کلیئرنس دی جس کے بعد طالبان کے مکمل زیر انتظام آچکا ہے، اس خوشی میں طالبان نے ایئر پورٹ پر ہوائی فائر نگ بھی کی۔ امریکی افواج کے مرکزی کمانڈر جنرل کینتھ مک کینزی کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہو چکا ہے اور دوم تمام امریکی شہریوں کو بھی وطن واپس لایا جا رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق ایک اہلکار میجر جنرل ہینک ٹیلر نے بتایا کہ جولائی سے اب تک ایک لاکھ 22 ہزار افراد کا کابل ایئر پورٹ سے انخلا مکمل ہو چکا ہے۔ ان میں 5400 امریکی بھی شامل ہیں۔ امریکی جنرل کینتھ کے مطابق بعض امریکی باشندے لاکھ کوشش کے باجود بھی آخری پانچ طیاروں میں سوار نہ ہو سکے، ہم نے ان کا بہت انتظار کیا لیکن وہ پہنچ نہ سکے۔ جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ کابل ایئر پورٹ سے انخلا کے 18 روز بہت مشکل تھے، ہمارا پلان کچھ اور تھا تاہم سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے سبب ہم نے اپنا پلان تبدیل کیا ، ہم نے طالبان پر واضح کردیا تھا کہ دی گئی ڈیڈ لائن پر ہم اپنا اور اتحادی افواج کا انخلا مکمل کر لیں گے اور اس دوران مداخلت برداشت نہیں کریں گے تاہم طالبان نے انخلا میں ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
یاد رہے کہ نائن الیون واقعے کے بعد امریکا نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ کیا تھا ، دوسری جانب طالبان کا موقف تھا کہ وہ پہلے اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف سانحہ 11 ستمبر میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے امریکی اور اتحادیوں نے اس وقت افغانستان پر حملہ کیا تاہم افغان طالبان نے گوریلا طرز کی جنگ پر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ گزشتہ بیس برس سے امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور پورے مشن میں دو ہزار امریکی فوجی جب کہ لاتعداد افغان طالبان اور لاکھوں عام بے گناہ شہری بھی مارے گئے۔ اس پورے مشن پر دو ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ اس طویل جنگ کے بعد امریکا ناکام و نامراد افغانستان سے چلا گیا لیکن پیچھے کئی جنگی طیارے ، ہیلی کاپٹر ز اور آلات جنگ ناکارہ بنا کر چھوڑ گیا ہے جن میں 73 کے قریب طیارے ، ہیلی کاپٹرز اور 70 مسلح گاڑیاں چھوڑ گئے ہیں تاہم ان سب کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے تاکہ کسی کے استعمال میں نہ آسکیں۔
طالبان رہنماؤں نے امریکی فوج کے چھوڑے گئے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں جب کہ جنگجو ان طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ شغل میں مصروف ہو گئے، ایسا لگ رہا تھا جیسے طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے بعد طالبان اپنی فتح کے مسرت لمحات سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔ بعد ازاں ترجمان طالبان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کا دن تاریخی دن ہے ، افغانستان سے بیس برس بعد امریکا کے نکلنے پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور قوم سے عہد کرتے ہیں کہ اسلامی روایات ، آزادی اور خود مختاری کی حفاظت کریں گے امریکا کی شکست افغانستان پر حملہ کرنے والوں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق ہے۔ اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ افغانستان کی امارت اسلامی ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی فتح ہے ، ہم امریکا سمیت دیگر دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں اور اچھے سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ممالک کو خوش آمدید کہیں گے۔
طالبان سمجھ چکے ہیں کہ وہ غیر ملکی حمایت کے بغیر نہیں چل سکتے اور دنیا کو افغانستان میں امن تباہ کرنے والوں کو پہچاننا ہو گا ، افغانستان میں انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے ، طالبان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت اور حوصلہ افزاء ہیں۔ امید ہے کہ جلد طالبان اپنی خواہشات کا اعلان کر دیں گے، عالمی برادری زمینی حقائق کا اندازہ کر کے مستقبل کے راستے کا انتخاب کرے ، افغانستان کو تنہا چھوڑنے سے دہشت گردوں کو وہاں پنپنے کا موقع ملے گا ، طالبان کے ساتھ روابط کے ذریعے مخلوط حکومت قائم اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
0 Comments