چین کے سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ افغانستان پر عائد مختلف یک طرفہ پابندیاں جلد از جلد ختم کی جائیں۔ افغانستان کے حوالے سے جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں وانگ کا حوالہ دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان پر سے اقتصادی پابندیاں ختم ہونی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر قومی اثاثے ہیں جو ملک کے لوگوں کی ملکیت ہونے چاہییں اور انہیں اس کے اپنے لوگ استعمال کریں، اسے افغانستان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے سودے بازی کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘ ایک طرف جہاں اشرف غنی حکومت کا تختہ الٹ کر افغان طالبان کے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے 9.5 ارب ڈالرز کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں اور بین الاقوامی قرض دہندگان بھی افغانستان سے دور ہیں، جنہیں خدشہ ہے کہ ان کی فراہم کی گئی رقم طالبان کے استعمال میں نہ آجائے، وہیں چین کا رویہ طالبان حکومت کے لیے بظاہر کچھ نرم نظر آتا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے رواں برس جولائی کے آخر میں شمالی شہر تیانجن میں طالبان کے ایک وفد کی میزبانی کی تھی، جس کے دوران طالبان نے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے یا افغان سرزمین کو چین مخالف طاقتوں کو استعمال کی اجازت نہ دینے کا عہد کیا تھا۔ ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی افغانستان سے امریکی دستوں کی واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پُر کرنا چاہتی ہے۔ چین سے قبل پاکستان بھی متعدد بار عالمی طاقتوں سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ طالبان کے کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد افغانستان کے اربوں ڈالرز کے اثاثوں کو غیر منجمد کریں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان سے متعلق مذاکرات سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ سب سے فوری ترجیح پڑوسی ملک کو مزید گہرے معاشی زوال سے بچانا ہے جو کہ انسانی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں بحران سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی اپیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رپورٹرز کو بتایا: ’ایک طرف آپ بحران سے بچنے کے لیے تازہ فنڈ اکٹھا کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ پیسہ جو ان کا ہے، وہ اسے استعمال نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اثاثے منجمد کرنے سے صورت حال میں کوئی مدد نہیں ہو رہی۔ میں عالمی طاقتوں سے پُرزور اصرار کرتا ہوں کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور اثاثے غیر منجمد کریں۔‘ شاہ محمود قریشی کے مطابق: ’یہ ایک اعتماد سازی کا پیمانہ بھی ہو گا اور یہ مثبت رویے کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے۔‘
0 Comments