Afghan Affairs

6/recent/ticker-posts

افغانستان : بحالی کی راہ پر

افغانستان پر امریکی فوج کشی کے کسی ٹھوس جواز کا نہ ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کے تمام شواہد روز اول سے واضح ہیں۔ افغان عوام نے اس بے جواز جارحیت کا ناقابل شکست عزم اور حوصلے سے مقابلہ کیا اور تحریک مزاحمت کا بھرپور ساتھ دے کر کامیابی حاصل کی۔ امریکہ نے امارت اسلامی افغانستان سے معاہدہ کر کے افغانستان میں طالبان کی حق حکمرانی کو تسلیم کیا۔ لہٰذا قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبارسے طالبان پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور افغانستان کی معاشی و سماجی بحالی میں تعاون امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ذمہ داری ہے۔ اس تناظر میں امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے طالبان سے لین دین کی اجازت کی اطلاعات خوش آئند ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے دو لائسنسوں کے ذریعے سے امریکی حکومت، این جی اوز اور اقوام متحدہ سمیت مخصوص عالمی تنظیموں کو طالبان یا حقانی نیٹ ورک نیز طالبان حکومت کیساتھ خوراک، ادویات اور طبی آلات کی برآمد سے متعلق محدود لین دین کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

بلاشبہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن افغان حکومت کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد رکھنے کا بھی کوئی جواز نہیں لہٰذا انہیں بھی فوری بحال کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم پاکستان نے بھی گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آن لائن خطاب میں عالمی برادری کو اسی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو افغان عوام کی بہتری کی خاطر موجودہ افغان حکومت کو مستحکم کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے افغانستان کے خلاف سوویت یونین اور پھر امریکہ کی فوج کشی، اس کے نتیجے میں پاکستان کے لئے پیدا ہونے والی شدید مشکلات کے باوجود عالمی برادری کے ساتھ پاکستان کے بھرپور تعاون کا مفصل ذکر کرتے ہوئے امریکی حکومتوں کے پاکستان کے ساتھ ناشکری پر مبنی رویے کا شکوہ کیا۔ کشمیر اور بھارت میں مودی حکومت کی مسلم کش پالیسیوں کو بخوبی بے نقاب کیا اور عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کی روک تھام کی ضرورت واضح کی۔ جہاں تک افغانستان اور طالبان حکومت کے معاملے میں پاکستان کے موقف کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ موقف اب تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے اور طالبان حکومت سے لین دین کا تازہ امریکی فیصلہ اسی حقیقت کا مظہر ہے۔ 

افغانستان کے حوالے سے مزید اچھی خبریں یہ ہیں کہ افغان وزارت داخلہ نے کروڑوں ڈالر مالیت کے اس فوجی ساز و سامان اور گاڑیوں کے اسکریپ کی منتقلی اور اسمگلنگ پر پابندی عائد کر دی ہے جس پر اسکریپ کے کاروباریوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس طرح اس سامان کا سرکاری بندوبست میں آجانا اب ملک میں کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھانے اور قومی خزانے کی صورت حال کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنے گا۔ دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر کے مطابق حکومت پاکستان نے افغانستان سے آنے والے پھلوں اور سبزیوں پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے جس کے بعد گزشتہ روز سے افغانستان سے بڑی تعداد میں پھلوں اور سبزیوں سے بھری سیکڑوں گاڑیاں طورخم بارڈر کے راستے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئی ہیں جبکہ محکمہ شہری ہوابازی نے افغان ایئرلائن کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے آپریشن کی اجازت دے دی ہے اور اب ہفتے میں اس کی تین پروازیں اسلام آباد سے افغانستان کیلئے روانہ ہوا کریں گی جس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کی جلد از جلد بحالی کے لیے عبوری افغان حکومت کی جانب سے بھی بعض اقدامات ضروری ہیں جن میں سے اہم ترین مستقل حکومت کا قیام ہے۔ پاکستان سمیت افغانستان کے بیشتر ہمسایہ ممالک مستقل حکومت کے قیام کے منتظر ہیں تاکہ اسے تسلیم کر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا سکیں لہٰذا طالبان کو اب جلد از جلد یہ ضرورت پوری کر دینی چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

Post a Comment

0 Comments