Afghan Affairs

6/recent/ticker-posts

ترکی، طالبان سفارتکاری

امریکہ اور نیٹو کے زیادہ تر اتحادی ممالک افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کر چکے ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل ترکی، کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سیکورٹی اور نظم و نسق کے بارے میں امریکہ کی اشیر باد حاصل کر چکا تھا لیکن افغانستان میں حالات نے اتنی تیزی سے پلٹا کھایا اور طالبان نے غیر متوقع طور پر چند ہی دنوں میں پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو ترکی کے پاس بھی نیٹو کے دیگر رکن ممالک کی طرح اپنے فوجیوں کے انخلا کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہ بچا۔ افغانستان میں مقیم تمام ترک فوجی اسلام آباد کے راستے واپس ترکی بخیریت پہنچ چکے ہیں اور اس سلسلے میں ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے ترک فوجیوں کی واپسی پر پاکستان کے تعاون پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ نیٹو کا اتحادی ملک ہونے کے باوجود ترک فوجیوں کو افغانستان میں جو قدرو منزلت حاصل ہوئی وہ نیٹو کے کسی بھی ملک کو حاصل نہ ہو سکی۔ 

اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ سب سے بڑھ کر افغانستان واحد اسلامی ملک تھا جس نے یکم مارچ 1921 میں طے پانے والے ترک افغان دوستانہ معاہدے کے ذریعے جمہوریہ ترکی کی قومی اسمبلی کی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور ترکی نے اس وقت سے افغانستان میں کئی اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو قائم کرتے ہوئے دوستی کی بنیادوں کو مضبوط بنایا اور پھر بیس سال قبل نیٹو کے اتحادی ملک ہونے کے ناتے اس نے جب افغانستان میں قدم رکھا تو نیٹو کے دیگر تمام اتحادی ممالک سے ہٹ کر افغانستان کی تعمیر نو میں بڑ ا اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی افغان عوام ترکوں کو دل و جان سے چاہتے ہیں۔ جہاں تک ترکی کی جانب سے کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی اور اس کو چلانے کی ذمہ داری اٹھانے کی تجویز کا تعلق ہے اس تجویز کو طالبان نے اس لئے مسترد کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں اگر کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کے لئے ترک فوجیوں کو افغانستان میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تو پھر روس ، چین اور دیگر ممالک بھی اپنے فوجی افغانستان بھیجنے اور مختلف مقامات کو سیکورٹی فراہم کرنے کے بارے میں دبائو ڈال سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ طالبان نے فوری طور پر ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ترکی نے اپنی فورسز کو کابل ایئرپورٹ کے تحفظ کے لئے تعینات کیا تو انہیں حملہ آور اور قابض سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔ تاہم اس کے باوجود ترکی اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دارالحکومت کابل میں جاری رہا جس پر طالبان نے حکومتِ ترکی کی افغانستان اور افغان عوام کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ ترکی کو کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کی بجائے صرف ہوائی اڈے کو چلانے کے بارے میں تجویز پیش کی۔ اس بارے میں ترکی کے صدر ایردوان نے اپنے دورہ بوسنیا ہرزِ گوینا سے قبل بیان دیتے ہوئے کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم داعش کے اس اقدام کو خطے اور دنیا کے لئے بڑا گھناؤنا اور بھیانک قرار دیا۔ 

انہوں نے صدر بائیڈن کے داعش کا قلع قمع کرنے کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی ہی دنیا میں واحد ملک ہے جس نے داعش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور علاقے سے (شام اور عراق) اس تنظیم کا خاتمہ کیا۔ صدر ایردوان نے طالبان سے مذاکرات نہ کرنے سے متعلق ڈالے جانے والے دبائو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہمیں کسی کے ساتھ، کہاں، کس وقت اور کس نوعیت کے مذاکرات کرنے کی کسی سے اجازت لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ ہم نے کابل ہوائی اڈے کا نظم و نسق سنبھالنے کے معاملے میں طالبان کو تجاویز پیش کی ہیں، تاہم اس معاملے میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ طالبان نے صرف کابل ایئر پورٹ کا انتظام سنبھالنے کی ترکی سے استدعا کی ہے لیکن ہم افغانستان میں حکومت قائم ہونے اور نظم و نسق کی صورتِ حال بہتر ہونے پر ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں‘‘۔ 

صدر ایردوان نے واضح طور پر کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے کئی ایک متبادل آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ جلد ہی ان کے ساتھ ہمارے معاملات طے پا جائیں گے لیکن کابل میں دہشت گردی کے حملے کی وجہ سے ہمیں سیکورٹی کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا کیونکہ اگر کابل میں دہشت گردوں کے حملے جاری رہے اور لاشیں گرتی رہیں تو ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے؟ ان سب معاملات کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لینا ہو گا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی وضاحت کی ہے لیکن حکومت سنبھالنے کے بعد ہی حقیقت سے آگاہی حاصل ہو سکے گی۔ ترکی افغانستان کی ان مشکل حالات میں مدد کرنا چاہتا ہے۔ ترکی افغانستان کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن مدد حاصل کرنے کے لئے دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ترک انٹیلی جنس طالبان مذاکرات کاروں سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے ترکی اور لیبیا کے درمیان معاہدے کی طرز پر افغانستان کے ساتھ بھی اسی قسم کے تعاون اور سیکورٹی کے معاہدے کے بارے میں کہا کہ اگر طالبان چاہیں تو ان کے ساتھ بھی اس قسم کا معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ صدر ایردوان نے طالبان سے خواتین کے حقوق کے بارے میں کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ طالبان اپنے معاشرے کے رسم و رواج کے مطابق خواتین کو تمام حقوق فراہم کریں گے تاکہ خواتین بھی افغانستان کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر سکیں تاہم ترکی کے حالات اور افغانستان کے حالات میں بہت فرق ہے لیکن اب طالبان بیس سال قبل والے طالبان نہیں ہیں انہیں بھی حالات کے مطابق ہی قدم اٹھانا ہوں گے‘‘۔

ڈاکٹر فر قان حمید 

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments