افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی کی سربراہی میں خزانے اور صنعت و تجارت کے وزراء اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کی پاکستان آمد، وزیراعظم پاکستان سے ملاقات اور اس میں افغانستان کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر مخلصانہ اور سنجیدہ گفتگو، دونوں برادر ملکوں کے گہرے تعلقات کا واضح مظہر ہے۔ پاکستان نے پچھلے 4عشروں میں افغانستان کے خلاف بیرونی جارحیت کے دوران لاکھوں افغان خاندانوں کی جس اپنائیت سے پذیرائی کی، اس جنگ زدہ ملک میں قیامِ امن کے لیے جو مؤثر کردار ادا کیا اور امریکی افواج کی واپسی کے بعد عالمی برادری کو پاکستانی قیادت جس طرح مسلسل افغان عوام کی مشکلات کے ازالے میں مثبت کردار کی ادائیگی کی جانب متوجہ کر رہی ہے، موجودہ افغان حکومت اس کی پوری طرح معترف ہے اور افغان وزارتی وفد کا دورۂ پاکستان اُس کی اسی سوچ کا عکاس ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے افغان وفد سے ملاقات میں افغانستان کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال میں عالمی برادری سے بہتر رابطوں کی خاطر درکار ضروری اقدامات پر بھی مناسب طور پر توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی اور پرُعزم اِنسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، تمام افغانوں کے حقوق کا احترام اور حکومت و سیاست میں سب کی شمولیت سے افغانستان کے استحکام میں مزید مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی اور ان کے وفد کے ارکان سے بات چیت میں اس امید کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکومت بین الاقوامی برادری سے روابط بہتر بنائے گی اور موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مثبت اقدامات کرتی رہے گی۔ اپنے ملک کو درپیش سنگین چیلنجوں پر قابو پانے میں افغان عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرنے، موسم سرما میں عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کی خاطر زیادہ سے زیادہ ممکنہ امداد فراہم کرنے اور بھارت سے پاکستان کے راستے گندم کی فراہمی کی اجازت دینے کی درخواست پر ہمدردانہ غور کرنے کے کی یقین دہانی کے علاوہ وزیر اعظم نے پاکستان اور خطے کے لیے ایک پُرامن، مستحکم، خودمختار، خوشحال اور عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات رکھنے والے افغانستان کی اہمیت واضح کی۔
معیشت کی بحالی اور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے امریکی بینکوں میں منجمد مالیاتی اثاثوں کی بحالی افغانستان کی ایک فوری ضرورت ہے جو پوری ہو جائے تو متعدد مسائل بہت کم وقت میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اس ضمن میں جو کوششیں کر رہا ہے وزیراعظم عمران خان نے افغان کابینہ کے ارکان کو ان سے آگاہ کیا۔ فی الحقیقت تحریک طالبان کو امارت اسلامی افغانستان تسلیم کر کے امریکہ کا ان سے معاہدہ، افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو امریکہ میں منجمد رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہنے دیتا۔ کم و بیش دس ارب ڈالر مالیت کے یہ اثاثے طالبان کی نہیں افغان عوام کی ملکیت ہیں اور امریکی بینکوں میں امانتاً رکھے ہوئے ہیں۔ افغان حکومت اور عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کے متعدد ارکان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ ان اثاثوں کو بحال نہ کر کے افغانستان میں غذائی قلت اور معاشی ابتری بڑھانے کا دانستہ ارتکاب کر رہی ہے جو واضح طور پر انسانیت کے منافی رویہ ہے۔
لہٰذا عالمی برادری کو امریکہ کی اس روش کو مثبت طور پر بدلنے میں بلاتاخیر نتیجہ خیز کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم پاکستان کو بھی اس ضمن میں اپنی کوششوں کو روس، چین، اسلامی ملکوں کی تنظیم اور دیگر بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے مزید مؤثر بنانا چاہیے۔ نیز دولت مند ملکوں، مخیر عرب ریاستوں خصوصاً افغانستان پر بیس سال طویل ناجائز جنگ مسلط رکھنے میں امریکہ کا ساتھ دینے والے نیٹو ممالک کو افغان عوام کی مشکلات کے ازالے کے لیے متحرک ہونا چاہیے۔
0 Comments