افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج معاشی بحران ہے۔ اسی لیے طالبان کی حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی کانگریس کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں افغانستان کے منجمند اثاثوں کو جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس خط میں امیر خان متقی نے تنبیہ کی تھی کہ اگر امریکہ نے نو ارب ڈالر مالیت کے اثاثے جاری نہیں کیے اور معاشی پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ 'ان کی حکومت نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا ہے اور امن قائم کیا ہے لیکن بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات پہلے سے موجود انسانی بحران میں اضافہ کر رہی ہیں۔' 'اس معاشی بحران کی جڑ امریکہ کی جانب سے ان اثاثوں کو منجمد کرنا ہے جو ہمارے عوام کے ہیں۔' امیر خان متقی کے مطابق موجودہ صورت حال میں افغانستان میں طالبان کی حکومت اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے خطے اور دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کریں گے۔
افغانستان میں بڑھتا ہوا معاشی اور انسانی بحران واضح رہے کہ امریکہ کے علاوہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی جانب سے بھی مالی امداد کی مد میں سوا ایک ارب ڈالر کی رقم کو موخر کر دیا گیا تھا جو اسی سال جاری ہونی تھی۔ اس مالی بحران کے باعث نا صرف افغانستان میں طالبان کی حکومت کو سرکاری ملازمین سمیت ڈاکٹرز اور اساتذہ کی تنخواہیں دینے میں مشکلات کا شکار ہے بلکہ اس کا اثر نچلی سطح پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ سالوں سے جاری خانہ جنگی اور طویل ہوتے قحط افغانستان کی چار کروڑ آبادی میں سے نصف کے لیے اس موسم سرما میں فاقوں کا باعث بن جائیں گے۔ ناروے کی ریفیوجی کونسل کے مطابق تقریبا تین لاکھ افغان شہری ایران جا چکے ہیں جب کہ پانچ ہزار شہری روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی راستوں سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک جا رہے ہیں۔
0 Comments