Afghan Affairs

6/recent/ticker-posts

افغانستان اور مسلم دنیا

چالیس سال تک جنگ کے شعلوں میں جھلسنے والے برادر مسلم ملک افغانستان کو درپیش سنگین انسانی مسائل اور معاشی مشکلات کے حوالے سے دنیا کے 57 ملکوں پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا انعقاد ایک ایسا اقدام ہے پوری مسلم دنیا جس کی شدید ضرورت محسوس کر رہی تھی۔ توقع ہے کہ تنظیم کے سربراہ سعودی عرب کی تجویز پر اور پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں افغانستان کو موجودہ بحرانی صورت حال سے نکالنے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات طے کیے اور جلد از جلد روبعمل لائے جائیں گے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے علاوہ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی اداروں نیز امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین کے نمائندوں سمیت بعض غیر رکن ممالک کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جس سے اس کی ہمہ گیری اور وسعت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 

اس موقع پر تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں اس پختہ یقین کا اظہار کیا ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک، اقوام متحدہ اور علاقائی شراکت داروں کے علاوہ متعلقہ فریقین افغانستان کو درپیش تشویشناک صورت حال کا پائیدار حل نکالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کا اہم رکن ہونے کے ناتے افغانستان تنظیم کے رکن ممالک کی طرف سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا پوری طرح حق دار ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامی یکجہتی فنڈ کے ذریعے سے افغانستان کے لیے امدادی منصوبے کو منظم کرنے اور اس پر فوری عملدرآمد کے لیے ضروری مالی وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ فعال کردار بھی ادا کریں۔ علاوہ ازیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انڈونیشی وزیر خارجہ سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ افغانستان کی بحرانی کیفیت ہنگامی ادارہ جاتی میکانزم کی تشکیل کی متقاضی ہے، افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں، افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ 

دریں اثناء عرب ویب سائٹ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ ابھی نہیں آیا۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ عالمی سطح پر ابھی انہیں تسلیم کرنے کی بات نہیں ہو رہی، عالمی برادری کی بہت سی توقعات ہیں جن میں شمولیتی حکومت نیز اقلیتوں اورخواتین کے حقوق کی پاسداری شامل ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری چاہتی ہے کہ طالبان ان چیزوں کی یقین دہانی کروائیں ۔ وزیر خارجہ کا یہ اظہار خیال ایک واقعاتی صورت حال کی وضاحت کی حد تک تو درست ہے لیکن اس کی بنیاد پر موجودہ افغان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے موقف کی تائید کرنا کسی طور درست نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ امارات اسلامی افغانستان کی حیثیت سے تحریک طالبان سے معاہدہ کر کے عملاً افغانستان میں حکومت سازی کو اس کا حق تسلیم کر چکا ہے۔ 

جن شرائط کا ذکر شاہ محمود قریشی نے کیا ہے طالبان انہیں پورا کرنے سے انکاری نہیں اور ان کی حکومت کو تسلیم کر لیا جائے تو وہ ان شرائط کی تکمیل کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ انسانی المیے سے افغانوں کو بچانے کی کارروائیاں بھی موجودہ حکومت کو عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد ہی صحیح طور پر شروع ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ توقع رکھتے ہیں کہ اسلامی تعاون تنظیم افغانستان کو درکار ہر قسم کے تعاون کی فراہمی کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں بھی پیش قدمی کر کے بین الاقوامی برادری پر اس کی ضرورت اور اہمیت کما حقہ واضح کرے گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

Post a Comment

0 Comments