پاکستان نے ان چھ مہینوں میں ہر محاذ پر افغانستان کیلئے آواز بلند کی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک پُرامن افغانستان ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد یوں تو بہت سے چیلنجوں کا سامنا رہا ہے لیکن امریکا کی جانب سے افغانستان کے فنڈز کو منجمد کرنا ایک ایسا چیلنج ثابت ہوا جس نے افغانستان میں انسانی بحران کے خدشات میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے باعث دیگر ممالک نے بھی اس معاملے پر پاکستان کے موقف کی تائید کی جب کہ افغانستان کے حالات اور دوحہ میں اس باب میں طالبان کی عبوری حکومت کے نمائندوں اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان کی مدد کیلئے جمع ہونے والے فنڈز بالآخر غیر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکومت مگر نصف فنڈز نائن الیون کے سانحہ کے متاثرین پر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کا دارومدار عدالتی فیصلے پر ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں اور افغانستان میں معاشی بحران کے خدشات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی ہے۔ امریکا یہ رقم براہِ راست افغان حکومت کو نہیں دے گا بلکہ بائیڈن انتظامیہ اس باب میں ایک ٹرسٹ تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ افغان عوام کی 3.5 ارب ڈالر کے فنڈز تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ افغانستان کے مزید دو ارب روپے کے اثاثے برطانیہ، جرمنی، سوئٹزر لینڈ اور متحدہ عرب أمارات میں موجود ہیں جن میں سے اکثر منجمد ہیں مگر اب ان کے غیرمنجمد ہونے کی امید بھی بندھ گئی ہے۔ امریکا کا نصف اثاثے نائن الیون کے متاثرین کیلئے مختص کرنا مناسب اسلئے بھی نہیں ہے کہ افغان عوام اس وقت ان فنڈز کے زیادہ مستحق ہیں تاہم امریکی حکومت کا طالبان حکومت کو تسلیم کیے بنا یہ فیصلہ کرنا ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
0 Comments