Afghan Affairs

6/recent/ticker-posts

بائیڈن صاحب ! آپ کا یہ فیصلہ افغان عوام کو بھوکا مار دے گا

امریکی صدر جو بائیڈن نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا میں منجمد کیے گئے افغان سینٹرل بینک کی رقم کا نصف حصہ 11 ستمبر کے حملوں کے متاثرین کے لواحقین میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ان افغانوں کو سزا دینے کے مترادف ہے جنہیں 2 دہائیوں طویل امریکی جنگ نے تباہ کر دیا ہے۔ بھوک سے مرتی آبادی سے اپنی عسکری شکست کا بدلہ لینے سے زیادہ سفاکانہ کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ یہ اقدام افغانستان کو معاشی تباہی کے قریب لے جائے گا، جس سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس طرح کی انتقامی کارروائی جنگ سے تباہ حال ملک میں استحکام لانے کی کوششوں میں بالکل معاون نہیں ہو گی۔ بڑھتے ہوئے انسانی بحران نے پہلے ہی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کو غربت کی طرف دھکیل دیا ہے اور بائیڈن انتظامیہ کے غیر معقول اقدامات صورتحال کو مزید خراب کر دیں گے۔ امریکی صدر بائیڈن نے گزشتہ ہفتے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں 7 ارب ڈالر کے منجمد افغان اثاثوں میں سے ساڑھے 3 ارب ڈالر ممکنہ طور پر 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین میں تقسیم کیے جائیں گے جبکہ بقیہ ساڑھے 3 ارب ڈالر افغانستان میں انسانی مدد کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ یہ امدادی رقم اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ٹرسٹ فنڈ میں رکھی جائے گی تاہم ان رقوم کی ادائیگی عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔

افغان سینٹرل بینک کے کُل 10 ارب ڈالر کے اثاثے بیرونِ ملک موجود ہیں جنہیں گزشتہ سال اگست میں ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد منجمد کر دیا گیا تھا۔ ان اثاثوں میں سے 7 ارب ڈالر کے اثاثے نیویارک کے فیڈرل ریزرو میں موجود ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے ان فنڈز کو طالبان حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس حکومت کو اب تک بین الاقوامی برادری نے قبول نہیں کیا ہے۔ معاشی پابندیوں نے افغانستان کے بینکاری نظام کو پہلے ہی تباہ کر دیا ہے جس سے معاشی حالت مزید ابتر ہو چکی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اپنے فیصلے کو جواز بنانے کے لیے 11 ستمبر حملوں میں متاثر ہونے والوں کے لواحقین کی جانب سے افغان فنڈز کو ضبط کرنے کے لیے دائر کیے گئے مقدمے میں زیرِ التوا عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔ 2012ء میں ایک امریکی عدالت نے اسامہ بن لادن، طالبان اور القاعدہ کے دیگر افراد خلاف ایک مقدمے میں متاثرین کے خاندانوں کا مالی نقصان پورا کرنے کا حکم دیا تھا۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بھی 11 ستمبر حملوں کے متاثرین کے خاندانوں نے افغان اثاثے ضبط کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم یہ اثاثوں کو ضبط کرنے کی ایک انتہائی مضحکہ خیز دلیل ہے۔ یہ اثاثے افغان عوام کے ہیں جنہیں القاعدہ کی جانب سے کیے گئے 11 ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں کا ذمہ دار قرار نہیں جاسکتا۔ یہاں ایک قانونی سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکی حکومت کسی دوسرے ملک کے اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے سکتی ہے یا نہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر فلاحی اداروں اور کئی معروف شخصیات کی جانب سے سخت تنقید ہوئی ہے اور انہوں نے ان اقدامات کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ اس سے امریکی انتظامیہ کی افغان پالیسی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ افغان ریاست کو مزید غیر مستحکم کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ یہ طالبان کی حکومت اور اس کی رجعت پسند پالیسیوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کا اثر افغان عوام پر ہو رہا ہے جو امریکا کی ’کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ‘ کے حقیقی متاثرین ہیں۔ 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کا ذمہ دار افغانوں کو کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ اس وقت تو موجودہ افغانوں کی اکثریت پیدا بھی نہیں ہوئی تھی، اور پھر یہ ملک 20 سال تک امریکی قبضے میں بھی تو رہا۔

کابل میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے اسے ’چوری‘ قرار دیا ہے۔ امریکا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی تقریباً 4 کروڑ کی آبادی بھوک کا شکار ہے اور تقریباً 10 لاکھ بچے سخت موسمی حالات اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ میں جب سے طالبان حکومت میں آئے ہیں، افغانستان کے لیے آنے والی تمام تر غیر ہنگامی امداد بند ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 سال کی جنگ میں جنتے لوگ ہلاک ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں تو لوگ بھوک سے پچنے کے لیے اپنے گردے بیچنے پر مجبور ہیں۔ برطانیہ کے سابق سیکریٹری خارجہ اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے ایگزیکٹو افسر ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں افغانوں کے لیے ان کے انتخاب کی سزا بن گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر فلاحی اداروں نے معاشی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ افغانوں تک بین الاقوامی امداد پہنچائی جاسکے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ ماہ عالمی بینک سے کہا تھا کہ انسانی بحران پر قابو پانے اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے فوری طور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر جاری کرے۔ تاہم امریکا نے پابندیوں میں نرمی کرنے کے بجائے افغانوں کو ان کے اثاثوں سے محروم کر کے ملک میں جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ بین الاقوامی انسانی امداد افغانستان پہنچنا شروع ہو گئی ہے لیکن اس سے افغانستان کا معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا۔ آنے والے معاشی حالات انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے حالات مزید مشکل بنا دیں گے۔ اس حالیہ اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ درحقیقت امریکا نے افغان ریلیف فنڈ کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن مسلسل مالی پابندیاں اور افغان اثاثوں کی تقسیم اس عمل کو غیر مؤثر بنا دیں گی۔ یہ بیانیہ بھی غلط ہے کہ معاشی پابندیوں میں نرمی سے طالبان حکومت کو فائدہ ہو گا۔ درحقیقت افغانستان کے اثاثوں پر قبضہ کر کے امریکا خواتین کو کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے اور جامع سیاسی نظام تشکیل دینے کے حوالے سے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ بھی گنوا دے گا۔

 جب تک طالبان بین الاقوامی برادری کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کو پورا نہیں کرتے تب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا شاید درست فیصلہ ہو، لیکن طالبان کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی سزا افغان عوام کو نہیں دینی چاہیے۔ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کو طالبان حکومت کے سیاسی جواز کے معاملے سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔ منجمد اثاثے افغان عوام کے ہیں اور وہ انہیں واپس کیے جانے چاہئیں۔
بیری امبڈسن کے بھائی 11 ستمبر کو پینٹاگون پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، وہ بجا طور پر کہتے ہیں کہ ’افغان عوام کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں اور 11 ستمبر کے متاثرین میں تقسیم کر دیے جائیں‘۔ ان افغانوں کو سزا دینے کا کوئی جواز نہیں جو خود امریکی جنگ کے متاثرین ہیں۔ طالبان کی حکومت کی واپسی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکی ہیں۔ افغان اثاثوں پر قبضے سے افغان خواتین اور بچوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور خطے اور بین الاقوامی امن پر افغان ریاست کی زبوں حالی کے سنگین اثرات ہوں گے۔

زاہد حسین 

بشکریہ ڈان نیوز
یہ مضمون 16 فروری 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔


Post a Comment

0 Comments